جمعے کا خطبہ
منجانب نرگس لطیف

(سوکھا )کچرا دو , ثواب کماؤ!

قرآن پاک میں نماز کے بعد جس بات کا سب سے زیادہ حکم ہے وہ زکات اور صدقہ ہے۔صدقے کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ان میں نیک نیتی سے مشورے دینا بھی شامل ہے۔

ہم یہاں صدقے کا دائرہ مختصر کرکے اس میں نقد کے علاؤہ جنس یعنی اشیاء کو بھی شامل کر رہے ہیں ۔

آج جس امر کی سخت ضرورت ہے وہ ہے کہ سوکھے اور گھیلے کچرے کو جدا جدا کیا جائے۔کروروں روپے کے مالیت کا سوکھا کچرا کچرا کونڈی کی نظر ہو جاتا ہے جس میں کچھ کو آگ لگایا جاتا ہے اور کچھ کو ندی نالوں میں پھینکا جاتا ہے ۔

تو آئیے آج سے عہد کریں کہ پورے ہفتے کا سوکھا کچرا جیسا کے کاغذ ،گتہ،پلاسٹک کی بوتلیں ،شاپر، پنی، تھرماپول وغیرہ کو جمع کرتے ہیں ۔اور پھر اس خزانے کو بطور خیرات یا صدقہ ان میں سے کسی کو دے دیتے ہیں:فلاہی ادارہ،کباری والا یا صفائ سے منسلک عملے یا پھر کچرا چننے والوں کو دیں گے۔

یوں تو سوکھا کچرا بھی گھومتے گھامتے فیکٹریوں تک پہنچ جاتا ہے۔لیکن اسکی مقدار کم ہوتی ہے۔غلاظت میں اٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے کم قیمتوں پر بکتا ہے ،نیز یہ کہ جو چننے والے ہیں ان کے لئے بیماری کا باعث بنتا ہے۔

لہازہ سوکھے کچرے کو گھیلے کچرے سے علیحدہ کرنا ہمارا دینی فرض بن جاتا ہے۔ نیکی اور ثواب کا کام بنتا ہے۔اور اس کام کے لئے جمعہ کا دن موضوع ترین ہے،جس دن ہفتے بھر کاجمع کیا ہوا سوکھا کچرے کو ٹھکانے لگایا جاۓ۔

ایک حدیث کے مطابق “صفائی نصف ایمان ہے” تو مندرجہ بالا نصیحت سے دگنا ثواب کمائیں!

جمعے کا خطبہ