جمعے کا خطبہ
چلتا پھرتا قران
منجانب
نرگس لطیف
چلتا پھرتا قران سے کیا مطلب اور اس کا تصور کیسے پیدا ہوا؟
آج سے کچھ سال پہلے میں نے دیکھا کہ نوجوان لڑکے،لڑکیوں کی طرح گلے میں ہار اور کانوں میں بالیاں پہنے پھر رہے ہیں ۔یہ ایک انتہائی کوفت دینے والا منظر تھا اور ہے۔۔
سوچا کہ کیوں نہ مردوں کو قرآن پاک کے ترجمے گلے کا ھار بنا کر گھمائیں ۔اس کا سب سے بڑا فأدہ یہ ہوگا کہ لوگ بڑے کارڈوں پر جلی حروفِ میں قرآنی آیات کے ترجمے پڑھیں گے۔اور سب سے بہترین جگہ تو مرد کا سینا ہے جس پر مقدس قلام کی زیبائش مقصود ہے۔اب اس کام کو گل بہاؤ ٹرست کے کارکنان نے اسے ایک مہم کی شکل دے دی ہے۔
اس مہم سے پہلے گل بہاؤ کے کارکنوں نے قرآنی تراجم کو خوب عام کیا: ۔
مسجدوں میں جا کر،مدرسوں میں جا کر،بسوں کے اڈوں پر،دوکانوں میں، ھسپتالوں میں وغیرہ وغیرہ اس کے نتیجہ میں کچھ سواریوں جیسے موٹر سائیکلوں،بسوں پر بھی ترجمے نظر آنے لگے
یہ کام سندہ خاص طور سے زیرین سندھ کیا گیا ہے: میرپور خاص ،بدین،ٹھٹہ، تھرپارکر،حیدراباد اور کراچی کے اضلاع میں ھوا ہے۔
آئیے ،اس نئ ثقافت کو اپنائیں جس کے تحت نو کو دیکھ کر دس اور لوگ پڑھیں گے اور اس طرح قرآن پاک صحیح معنوں میں پھیلنے لگے گا۔
گل بہاو
